دیوبند،8؍فروری(ایس او نیوز؍ایجنسی) نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (NCPCR) کی نوٹس پر کارروائی کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ نے دارالعلوم دیوبند کو نوٹس بھیج کر کچھ مبینہ طور پر متنازعہ فتوؤں کو جانچ مکمل ہونے تک ویب سائٹ سے ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔ جس کے بعد دارالعلوم دیوبند نے مذکورہ فتوؤں کو پبلک ڈومین سے ہٹالیاہے۔
واضح رہے کہ کچھ ایام قبل دارالعلوم کے کچھ فتوؤں کے خلاف نیشنل کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال میں شکایت درج کرائی تھی،جس کے بعد کمیشن نے یوپی کے چیف سکریٹری اور ضلع مجسٹریٹ کو نوٹس بھیج کر ان فتوؤں کے سلسلہ میں ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی تھی،شکایت کنند ہ کے مطابق دارالعلوم دیوبند کی طرف سے جاری کردہ فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ گود لیے گئے بچے کو حقیقی بچے کے برابر حقوق نہیں مل سکتے۔
نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کا کہنا ہے کہ ایسے فتوے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔اس معاملہ میں ہفتہ کے روز نوٹس جاری کرکے سہارنپور کے ڈی ایم اکھلیش سنگھ نے دارالعلوم دیوبند کو ہدایت دی ہے کہ وہ بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے فتوے کی تحقیقات مکمل ہونے تک اپنی ویب سائٹ سے ان فتوؤں کو بلاک کردیں۔
انہوں نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند کو نوٹس جاری کیا ہے، نوٹس جاری کرنے کے بعد ان لوگوں نے اپنا جواب بھی داخل کیاہے،جس کی جانچ کی جارہی ہے، قانونی جانچ کے بعد اس میں جو بھی قانونی کارروائی بنے گی وہ کی جائیگی۔ ضلع مجسٹریٹ اکھلیش سنگھ نے بتایا کہ دارالعلوم دیوبند کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تحقیقات ہونے تک بعض متنازعہ فتوؤں کے لنکس کو ویب سائٹ سے ہٹانے کا حکم دیا ہے، تاہم، ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ ویب سائٹ کو مکمل طور پر بند کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے بتایا کہ کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس سے شکایت کرتے ہوئے مبینہ طور پر کئی فتوے ملکی قوانین کے خلاف بتائے ہیں۔ جس کے بعد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے ایک نوٹس موصول ہوا ہے، جس میں تحقیقات ہونے تک ان فتوؤں کے لنکس کو پبلک ڈومین سے ہٹانے کو کہا گیا ہے،جن کو جانچ مکمل ہونے تک ہٹا لیا گیاہے، بتایا گیا ہے کہ ایسے 9فتوے ہیں جن کے لنکس ویب سائٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں البتہ دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ کی خدمات بدستور جاری ہیں۔
واضح رہے کہ این سی پی سی آر کودارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ پر شائع کیے گئے ایک فتویٰ کے متعلق شکایت موصول ہوئی تھی۔ اس معاملہ میں کمیشن کی طرف سے یوپی حکومت اور سہارنپور کے ضلع مجسٹریٹ کو لکھے گئے خط میں دیوبند کے فتوے کا ذکر کیا گیا تھا،اسکے ساتھ دارالعلوم دیوبند کے ویب سائٹ کے 9 لنکس بھی شیئر کیے گئے تھے۔
ان میں سے ایک فتویٰ میں دارالعلوم دیوبندکا کہنا ہے کہ بچہ گود لینے سے اس پر اصل بچے کے حقوق نافذ نہیں ہوتے، بلکہ بالغ ہونے پر شرعی طورپر اس سے پردہ واجب ہے،ساتھ ہی گود لیے گئے بچے کو حقیقی بچے کے برابر حقوق نہیں مل سکتے۔واضح رہے کہ فتویٰ شرعی مسائل کا حل ہے،جو شریعت کی روشنی میں زندگی گزارنے کا راستہ دکھاتاہے۔